ابنا: تحقيقات اور دستاويزي شواہد کے علاوہ صہیونی ریاست کے حملے ميں شہيد اور زخمي ہونے والوں کي صورتحال کے جائزے سے يہ بات پوري طرح واضح ہوگئي ہے کہ اسرائيل نے غير مساوي جنگ کے دوران غير روائتي ہتھياروں کا استعمال کيا ہے۔اس بارے ميں فلسطين کي منتخب حکومت کي وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتايا ہے کہ اسرائيل کے حاليہ حملے ميں ايک سو چوراسي فلسطيني شہيد اور ايک ہزار تين سو ننانوے زخمي ہوئے ہيں اور ان کے زخموں کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائيل نے اس جنگ ميں ايسے ہتھيار استعمال کئے ہيں جو اس سے پہلے استعمال نہيں کئے گئے تھے۔فلسطين کي وزارت صحت کے ترجمان نے مزيد کہا کہ اسرائيلي جارحيت ميں زخمي ہونے والوں کے زخم انتہائي پيچيدہ اور غير مانوس ہيں جنکا مداوا کرنا مشکل ہو رہا ہے لہذ شہيد ہونے والوں کي تعداد ميں اضافہ ہورہاہے= اعدا وشمار کے مطابق اسرائيل کي حاليہ جارحيت ميں زخمي ہونے والوں ميں پانچسو بچے تين سو خواتين، اور دو سو سن رسيد افراد شامل ہيں۔اس اعلي فلسطيني عہديدار نے کہا کہ صيہوني حکومت کي فضائيہ نے ايک ہزار سے زيادہ مرتبہ غزہ پٹي پر حملے کئے اور اکثر حملوں ميں رہائشي مکانات اور نجي گاڑيوں کو نشانہ بنايا گيا۔ انہوں نےبتايا کہ اسرائيل جارحيت کے دوران زخمي ہونے والوں کے زخموں کے بارے ميں دستاويزي رپورٹ اور فلميں انساني حقوق کي علاقائي اور عالمي تنظيموں اور اداروں کو ارسال کردي گئي ہيں۔ جبکہ اسرائيل کے خلاف قانوني چارہ جوئي کي تياري بھي کي جارہي ہے۔عالمي تجزيہ نگاروں اور دفاعي مبصرين بھي اپني تحقيقات ميں اس نتيجے پر پہنچے ہيں کہ اسرائيل نے دوہزار آٹھ کي جنگ کي طرح غزہ کي آٹھ روزہ جنگ کے دوران بھي فاسفورس بموں کا استعمال کيا ہے جن کا استعمال عالمي قوانين کے تحت جرم قرار ديا جاچکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
16 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 372889
غزہ کي آٹھ روزہ جنگ ميں اسرائيل کے مجرمانہ اقدامات کے بارے ميں سامنے آنے والي رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ صہیونی ریاست نے فلسطيني عوام کے خلاف کسي بھي جرم کے ارتکاب سے دریغ نہيں کيا ہے۔